the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز
etemaad live tv watch now

ای پیپر

انگلش ویکلی

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اوپینین پول

کیا آپ کو لگتا ہے کہ دیویندر فڑنویس مہاراشٹر کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے؟

جی ہاں
نہیں
کہہ نہیں سکتے
امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ نے اخبار ڈیلی میل اور ایک امریکی بلاگر کے خلاف اُس الزام کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ ’وہ پہلے ایک سیکس ورکر تھیں۔‘ انھوں نے برطانوی اخبار اور بلاگر کے خلاف ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے لکھا تھا کہ ملانیا ٹرمپ نے نیویارک میں کبھی کبھی بطور ایسکورٹ (ہم رکاب) کام کیا اور وہیں ان کے شوہر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ بلاگر ویبسٹر ٹرپیلی نے لکھا ہے کہ ملانیا ٹرمپ اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ کہیں ان کے ماضی کے متعلق عوام آگاہ نہ ہوجائے۔ ملانیا ٹرمپ کے وکیل چارلس ہارڈر کا کہنا ہے کہ یہ دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ ’ان لوگوں نے ملانیا ٹرمپ کے متعلق کئی ایسی باتیں کہی ہیں جو 100 فیصد جھوٹ ہیں اور وہ ان کی ذاتی یا پیشہ ورانہ ساکھ کے لیے انتہائی تباہ کن ہیں۔‘ بیان کے مطابق چارلس ہارڈر نے کہا: ’دفاع کرنے والوں کے اقدامات ملانیا ٹرمپ کے لیے بہت ہی خراب، بدنیتی پر مبنی اور اس قدر نقصان دہ ہیں کہ اس سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہے۔‘ 46 سالہ ملانیا ٹرمپ سلووینیا میں پیدا ہوئی تھیں اور سنہ 1990 میں وہ کام کے لیے امریکہ منتقل ہوئیں۔ انھوں نے ڈونلڈ



ٹرمپ سے 2005 میں شادی کی تھی۔ اس حوالے سے عدالت میں جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں اس کے مطابق ڈیلی میل نے سلووینیا کے ایک جریدے ’سوزی‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جس ماڈلنگ ایجنسی میں ملانیا کام کرتی تھیں وہ بطور ایسکورٹ ایجنسی کی تقریبات میں شرکت کرتی تھی۔ اخبار نے سلووینیا کے ایک صحافی بوجان پوزر کا بھی حوالہ دیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ نیویارک میں ملانیا ٹرمپ نے سنہ 1995 میں برہنہ تصویریں بنوائی تھیں، ان کا الزام ہے کہ اسی برس ان کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوئی تھی۔ اس دعوے کے برعکس کہا یہ جا رہا ہے کہ ان کی ملاقات پہلی بار 1998 میں ہوئی تھی جبکہ ملانیا کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ سنہ 1996 میں منتقل ہوئی تھیں۔ بلاگر ٹرپیلی کا کہنا ہے کہ ’ملانیا ٹرمپ اس بات سے بہت خوفزدہ رہتی تھیں کہ کہیں ان کے اس وقت کے مالدار گاہک کہیں ان کی کسی جنسی بات کو افشاں نہ کر دیں جب وہ بطور ایسکورٹ یا ہم رکاب کام کیا کرتی تھیں اور اسی وجہ سے ان پر اعصابی دورہ پڑا تھا۔‘ 

اس کیس کے بعد ڈیلی میل اخبار اور بلاگر ٹرپیلی نے اپنا مضمون واپس لے لیا ہے۔ مضمون کی واپسی کی وجوہات بتاتے ہوئے اخبار نے جمعرات کو لکھا تھا کہ اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ سیکس ورکر سے متعلق دعوے سچ ہیں بلکہ کہا تھا کہ اگر وہ غلط بھی ہیں تو بھی وہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/
https://www.owaisihospital.com/
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2025 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.